بھارت پر دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کا الزام، تعلقات میں کشیدگی برقرار

اسلام آباد – پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، اسلام آباد نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو ہراساں کرنے کے الزامات بھارت پر عائد کیے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں تعینات کم از کم چار پاکستانی سفارتکاروں کو ان کے مکان مالکان نے کرایہ داری کے معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ سفارتکار نجی طور پر کرائے پر لیے گئے گھروں میں رہائش پذیر ہیں اور انہیں گیس اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولتوں کی بار بار معطلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 17 پاکستانی اہلکار، جن میں سفارتکار بھی شامل ہیں، گذشتہ تین سے پانچ ماہ سے بھارتی ویزوں کی توسیع کے منتظر ہیں، تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ کو جمع کرائی گئی درخواستوں پر اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی پانی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے، جبکہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بھارتی اخبارات کی ترسیل بھی روک دی گئی ہے۔ ہائی کمیشن نے اس حوالے سے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے اور اسے سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یہ مبینہ ہراسانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے تعلقات 2019 کے پلوامہ حملے اور اس کے بعد ہونے والے بالاکوٹ فضائی حملوں کے بعد سے مسلسل جمود کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک اس سے قبل بھی ایک دوسرے پر سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں، حالانکہ ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت میزبان ممالک پر یہ لازم ہے کہ وہ غیر ملکی سفارتخانوں کی حفاظت، وقار اور آزادانہ کام کرنے کی صلاحیت کو یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں