امریکہ اور چین کا تجارتی جنگ میں 90 روزہ وقفہ، کرسمس سیزن سے قبل مارکیٹوں کو ریلیف

واشنگٹن: امریکہ اور چین نے پیر کو باہمی تجارتی محصولات میں اضافے سے متعلق مہلت میں مزید 90 دن کی توسیع کر دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اشیاء پر تین ہندسوں والے ٹیکس عائد ہونے سے بچاؤ ہو گیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی تاجر سال کے آخری ایام میں ہونے والی خریداری کے سیزن کے لیے ذخیرہ اندوزی کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت 10 نومبر کی صبح 12 بج کر 1 منٹ (امریکی مشرقی وقت) تک بلند محصولات کا نفاذ معطل رہے گا، جب کہ باقی شرائط جوں کی توں برقرار رہیں گی۔

چین کی وزارتِ تجارت نے منگل کو علی الصبح اسی نوعیت کا اعلان کرتے ہوئے اضافی محصولات اور امریکی کمپنیوں کو تجارتی و سرمایہ کاری کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی 90 دن کے لیے مؤخر کر دیا۔

ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا کہ “امریکہ، چین کے ساتھ تجارتی عدم مساوات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قومی و اقتصادی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان مذاکرات کے ذریعے چین غیر مساوی تجارتی معاہدوں کو درست کرنے اور امریکہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہا ہے۔”

یہ مہلت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان محصولات سے متعلق عارضی معاہدہ منگل کو ختم ہونا تھا۔ اب توسیع کے نتیجے میں کرسمس سیزن کے لیے درآمدات، جیسے الیکٹرانکس، ملبوسات اور کھلونے، کم شرح پر ممکن ہوں گے۔ اس فیصلے سے امریکی درآمدات پر چینی اشیاء پر محصولات 145 فیصد اور چینی محصولات 125 فیصد تک بڑھنے سے رک گئے ہیں، جو ایک طرح کی تجارتی ناکہ بندی کے مترادف ہوتا۔ فی الحال دونوں طرف کی موجودہ شرحیں، یعنی امریکی درآمدات پر 30 فیصد اور چینی درآمدات پر 10 فیصد، برقرار رہیں گی۔

چین نے اس فیصلے کو دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان 5 جون کی ٹیلی فونک گفتگو میں طے پائے گئے “اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کا ایک قدم” قرار دیا، جس سے عالمی معیشت میں استحکام آئے گا۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ اور چین تجارتی معاہدے کے قریب ہیں اور اگر معاہدہ طے پایا تو وہ رواں سال کے آخر میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت دونوں ممالک میں جاری مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کرے گی اور خریف کے موسم میں ممکنہ طور پر کسی بڑے معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں