ایران کا امریکہ کے زیرِ انتظام آرمینیا۔آذربائیجان ٹرانزٹ راہداری منصوبے پر شدید اعتراض

تہران – ایران نے امریکہ کے زیرِ انتظام آرمینیا کے راستے ایک ٹرانزٹ راہداری کے قیام کے امریکی منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ اور تہران کے سکیورٹی مفادات کے منافی ہے۔

یہ منصوبہ جمعہ کے روز واشنگٹن میں آرمینیا کے وزیرِاعظم نیکول پشینیان، آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پایا، جس کے تحت ’’زنگیزور ٹرانسپورٹ کوریڈور‘‘ کھولا جائے گا۔ یہ راہداری آذربائیجان کے مرکزی حصے کو اس کے نخشِوانی ایکسکلیو سے جوڑے گی، جو آرمینیا کے جنوبی حصے میں ایران کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

معاہدے کے تحت امریکہ اس راہداری کو آرمینیا کی خودمختاری کے تحت 99 سالہ لیز پر لے کر تعمیر اور آپریشن کے لیے ایک کنسورشیم کو سب لیز کرے گا۔

تہران نے اگرچہ یریوان اور باکو کے درمیان امن معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن امریکی کنٹرول کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے ایران کا آرمینیا سے زمینی رابطہ منقطع ہو جائے گا اور جنوبی قفقاز میں غیر ملکی فوجی و تجارتی موجودگی بڑھ کر عدم استحکام پیدا کرے گی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینیئر مشیر علی اکبر ولایتی نے اس منصوبے کو امریکہ اور اسرائیل کی جغرافیائی سازش قرار دیا، جس کا مقصد ایران کو کمزور کرنا، ایران اور روس کا زمینی رابطہ کاٹنا اور نیٹو کی توجہ یوکرین سے قفقاز کی طرف موڑنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ راہداری ’’ٹرمپ کے قبضے میں ٹرانزٹ روٹ نہیں بلکہ اس کے کرائے کے فوجیوں کا قبرستان‘‘ بنے گی، اور روس بھی اس کی تزویراتی مخالفت کرتا ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ خطے کے استحکام اور خوشحالی کے بہترین حل وہ ہیں جو خود خطے کے ممالک اور ان کے قریبی ہمسائے — خاص طور پر روس، ایران اور ترکی — مل کر تیار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2020 کی نگورنو کاراباخ جنگ کے بعد آرمینیا، آذربائیجان اور روس کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی معاہدے تاحال مؤثر ہیں اور آرمینیا کی سرحدیں 1992 کے معاہدے کے تحت اب بھی روسی بارڈر فورسز کے زیرِ نگرانی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں