واشنگٹن/اسلام آباد; امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی گروہ “مجید بریگیڈ” کو باضابطہ طور پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی او) کی فہرست میں شامل کر دیا۔
بی ایل اے کو پاکستان میں 2006 سے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے جبکہ امریکا نے 2019 میں اسے “خصوصی عالمی دہشت گرد” (ایس ڈی جی ٹی) کے طور پر نامزد کیا تھا۔ تاہم اس کی خودکش اسکواڈ، مجید بریگیڈ، اس فہرست میں شامل نہیں تھی۔
پاکستان طویل عرصے سے واشنگٹن سے مطالبہ کرتا آ رہا تھا کہ مجید بریگیڈ کو بھی عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کیا جائے۔ حالیہ اقدام کے تحت مجید بریگیڈ کو بی ایل اے کی موجودہ ایس ڈی جی ٹی نامزدگی کے تحت شامل کیا گیا ہے اور بی ایل اے کو امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت ایف ٹی او قرار دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے پر مہلک حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جن میں 2024 میں کراچی ایئرپورٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس کے قریب خودکش دھماکے، اور 2025 میں جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ شامل ہے، جس میں 31 افراد ہلاک اور 300 سے زائد مسافر یرغمال بنائے گئے تھے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اسلام آباد کا مؤقف واشنگٹن میں کامیابی سے پیش کرنے پر سراہا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسے “بڑی سفارتی کامیابی” قرار دیتے ہوئے ان گروہوں کو بھارت کے ایجنٹ قرار دیا اور کہا کہ “ان کے سرپرست بھی جلد اسی فہرست میں شامل ہوں گے”۔
یہ پیش رفت بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جہاں بی ایل اے نے سویلین اور سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر قائم ہے اور عالمی برادری سے انتہا پسند نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔
یہ اقدام اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کے دور میں آیا ہے، جسے حالیہ اعلیٰ سطحی دوروں اور مشترکہ انسداد دہشت گردی کوششوں سے مزید تقویت ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام، بشمول سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کُرلا، نے داعش خراسان کے کارندوں کی گرفتاری اور مغربی علاقوں میں شورش کے خلاف پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔