افغانستان میں پاکستانی لیموں کی بڑی کھیپ بیماری کے باعث مسترد

طورخم میں حکام نے پاکستان سے آنے والے لیموں کی ایک بڑی کھیپ کو روک دیا ہے، جب معائنے کے دوران پتہ چلا کہ یہ پھل ’سٹرَس کینکر‘ نامی بیکٹیریائی بیماری میں مبتلا ہے، جو ترش پھلوں کی فصل کو نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں انسانی استعمال کے لیے نا موزوں بنا دیتی ہے۔

آریانا نیوز کے مطابق ننگرہار کی زراعت، آبپاشی اور مالداری ڈائریکٹوریٹ نے ایک مقامی کمپنی کی مدد سے 15 ٹن لیموں کی اس کھیپ کو مسترد کیا۔ ننگرہار کے زرعی ڈائریکٹر محمد ولی محسن نے کہا کہ بیمار لیموں کو مقامی باغات کو تحفظ دینے کے لیے واپس بھیجا گیا، اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ صرف معیاری اور صحت مند سبزیاں اور پھل اسلامی امارت کے اصولوں کے مطابق درآمد کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معائنے افغانستان کی زرعی پیداوار کو سرحد پار سے پھیلنے والی بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ طورخم سرحد پاکستان سے افغانستان آنے والی سبزیوں اور پھلوں کا سب سے مصروف داخلی راستہ ہے، جہاں حکام نے حالیہ عرصے میں قرنطینہ چیک مزید سخت کر دیے ہیں کیونکہ درآمد شدہ اجناس میں بارہا پودوں کی بیماریاں پائی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں