*یوسف سراج*
ایڈونچر بھی مار گیا ہمیں۔ معلوم نہیں کس ڈپریشن اور ٹینشن میں آ پھنسا ہے،آج کا انسان۔ سب کچھ ہوتے سوتے بھی روح زخمی ہے۔ بزرگ ایک چادر، دو برتن ، ایک منجی اور ایک کچے کوٹھے میں روح کی آسودگی سے زندگی گزار دیتے تھے،آج ہر طرف رنگ اور رونقیں بکھری ہیں مگر روح اداس ہے اور انسان ایڈونچر کے بیلنے میں دماغ کا گنا پھنسا کے کچھ دیر اپنا اندر بھول جانا چاہتا ہے۔ اس ایڈونچر کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ کا بندہ برسات میں شمالی علاقہ جات میں جا نکلتا ہے اور چائنہ تک پہاڑوں میں فیملی لئے پھرتا ہے۔ موسم بدل رہا ہے، کچھ پتہ نہیں چلتا کب کہاں کتنا آسماں برس جائے۔کہاں طغیانی اس کا وجود ہی بہالے جائے۔ لیکن یہ باز آنے اور سوچنے کو تیار نہیں۔
اب چلاس سے تصویریں سامنے آئی ہیں،ٹوٹی پھوٹی،الٹی پڑی گاڑیوں کی۔ تین کوسٹرز اور کل آٹھ گاڑیاں حادثے کا شکار ہوئی ہیں، پتہ چلا ایک چھوٹی گاڑی والوں کو مقامی لوگوں نے آگے جانے سے روکا بھی مگر وہ حادثے کا شکار ہونے کیلئے نہیں رکے۔ جانے کتنی جانیں گئی ہوں گی۔ بادل پھٹ کے برسا، وہ جسے کلاؤڈ برسٹ کہتے ہیں۔ طغیانی اٹھی اور بہت سوں کے ساتھ لودھراں میں ہسپتال بنانے اور چلانے والی ڈاکٹرز فیملی کو بھی بہا لے گئی۔ ڈاکٹر عفان قیصر نے روتے ہوئے یہ بات بتائی کہ اس فیملی سے ان کے فیملی ٹرمز تھے۔ ان کی کہانی بتائی کہ والدہ کی یاد اور ان کے صدقہ جاریہ کے طور پر اس فیملی نے مرحومہ ڈاکٹر والدہ کے نام پر شاہدہ اسلام ٹیچنگ ہسپتال کی بنیاد رکھی۔ کم وسیلہ لوگوں کا جہاں مفت علاج ہوتا ہے۔ہسپتال بھی شائد ابھی نیا نیا ہی بنا ہے۔ اب دو ڈاکٹرز خواتین کی ڈیڈ باڈیز ملی ہیں اور ایک بچہ لا پتہ ، خود سعد ، کی بیوی اور بھابھی جاں سے گئی ہیں،یہ خود شدید زخمی ہیں،بچہ ان کا ابھی نہیں ملا۔ تفصیلات شائد کچھ اور بھی ہیں سبق لیکن یہ کہ آج کا انسان بہت تھک گیا ہے، اس عہد کے ساتھ چلنے کی دوڑ میں خود پر اتنا بوجھ لاد بیٹھا ہے کہ بالکل ہی ہانپ گیا ہے،اتنا کہ ذرا سا سستانے کو زخمی برسات میں پہاڑوں پر جا چڑھتا ہے اور نتیجہ بھگتتا ہے۔
اللہ اس فیملی اور باقی مسافروں کے بھی جانے والوں پر رحمت اور رہ جانے والوں پر رحم فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ایسی برساتوں میں گھر میں بیٹھیں، پہاڑوں پر برسات ہو لینے دیں۔ احتیاط کریں۔ بہت احتیاط۔ ورنہ تو سانحات گویا ٹوٹی تسبیح کے دانوں کی طرح ہم پر گر رہے ہیں،برس رہے ہیں،مسلسل اور دل خراش۔ اللہ سب مسافروں کو اپنی امان میں رکھے اور جیسے گئے ہوں،ویسے ہی گھر لائے۔