اسلام آباد(وے آوٹ نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے پروگرام ٹاک شاک میں گفتگو کرتے ہوئے سیاسی اور عسکری قیادت سے متعلق اہم انکشافات کیے۔میاں جاوید لطیف نے انکشاف کیا کہ موجودہ وزیراعظم سمیت مسلم لیگ ن کے کئی رہنما جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کے حق میں نہیں تھے، تاہم میاں نواز شریف وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے سینیئر موسٹ جنرل کو آرمی چیف بنانے کا دوٹوک فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے بھی خلاف تھے۔اور اس فیصلے پر سختی سے قائم رہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران وہ اٹھارہ ماہ تک وزیر بے محکمہ رہے، صرف ایک پیغام بھیجنے پر وزارت مل سکتی تھی مگر “میرے ضمیر نے اجازت نہ دی۔جاوید لطیف کے مطابق جنرل باجوہ ان کی کابینہ میں شمولیت کے خلاف تھے، تاہم نواز شریف ان کی حمایت میں ڈٹے رہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آج جس ہائبرڈ نظام پر تنقید کرتے ہیں، ماضی میں اسی نظام کے تحت اقتدار میں آئے، اور آج بھی وہ اسی نظام کا حصہ بننے کے لیے بے تاب ہیں۔ جاوید لطیف نے الزام لگایا کہ عمران خان کے قریبی ساتھی موجودہ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور نظام کی اصل تبدیلی کے خواہشمند نہیں۔انہوں نے اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غداری کے مقدمے میں سات ماہ قید میں رہے، چھ ماہ والدہ سے ملاقات نہیں۔کروائی گئی، حتیٰ کہ “بعد میں میری والدہ کو بھی قید کر دیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنرل باجوہ کو دی گئی پہلی توسیع میں بھی نواز شریف کی حتمی منظوری شامل نہیں تھی۔ جاوید لطیف نے کہا کہ اگر ملک کو سیاسی طور پر مستحکم کرنا ہے تو نواز شریف کو ملکی مفاد میں کردار ادا کرنے پر قائل کیا جانا چاہیے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات نے سسٹم کو قدموں پر کھڑا کیا اور بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد موجودہ ہائبرڈ سسٹم مزید مستحکم ہوا ہے۔