اسلام آباد(وے آوٹ نیوز) وفاقی دارالحکومت میں شہری منصوبہ بندی کے ناقص فیصلوں، ادھورے ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی ناکامیوں نے ٹریفک کا نظام مزید ابتر کر دیا ہے۔ چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) محمد علی رندھاوا کی زیر نگرانی جاری اقدامات شہریوں کو سہولت دینے کے بجائے مشکلات میں اضافے کا سبب بننے لگے
جناح ایونیو انڈرپاس، طیب اردوان انڈرپاس، آئی-8 فلائی اوور اور جی-11 تا ایف-10 سگنل فری کاریڈور جیسے منصوبوں میں ناقص تعمیراتی معیار کی شکایات سامنے آنے لگیں۔ ان منصوبوں کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی بلکہ نئے مسائل اور خطرناک چوراہے بھی جنم لے چکے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے سڑکوں کی ناہمواری، پانی جمع ہونے اور قبل از وقت خستہ حالی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔

ماحولیاتی تحفظ کی دعویدار “گرین اسلام آباد” مہم محض نمائشی شجرکاری تک محدود رہی، جب کہ پارکس کی خستہ حالی اور ناقص دیکھ بھال شہریوں کے لیے باعثِ پریشانی بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح کھیل کے میدانوں کے وعدے بھی صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔اور پہلے سے موجود انفراسٹرکچر بھی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے.چیئرمین رندھاوا کی ڈیجیٹل اصلاحات کی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ آن لائن بلنگ، نقشوں کی منظوری اور شکایات کے ازالے جیسے عمل پیچیدہ اور غیر فعال ہو گئے، جس سے عوامی سطح پر مزید بداعتمادی پیدا ہوئی۔پانی کی فراہمی، صفائی، ہنگامی سروسز اور ٹریفک کنٹرول جیسے بنیادی شعبوں میں بھی کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ نچلے طبقے کے لیے کم لاگت ہاؤسنگ اسکیموں کے دعوے اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے اور بیوروکریسی کی روایتی تاخیری کارروائیاں ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی کی حمایت کے باوجود محمد علی رندھاوا کی سربراہی میں سی ڈی اے کی کارکردگی نے اسلام آباد کو ماڈل شہر بنانے کے بجائے انتظامی بحرانوں اور عوامی بے چینی میں دھکیل دیا ہے۔ ان کے دور کو وعدوں، غیر موثر منصوبہ بندی اور شہری مسائل میں اضافے کا مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے کا رویہ حکومت کے لئے بھی شرمندگی کا باعث بن رہا ہے.ج