اسلام آباد(وے آوٹ رپورٹ)
وفاقی حکومت نے اہم اقتصادی و انتظامی شعبوں میں اصلاحات اور کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ، توانائی، پیٹرولیم، پلاننگ، تجارت، صنعت و پیداوار اور اطلاعات سمیت سات کلیدی وفاقی وزارتوں میں سیکرٹری سطح کی تعیناتیاں پرائیویٹ سیکٹر سے کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملکی ترقی اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے ایسے ماہرین کو سامنے لایا جائے جو جدید نظم و نسق، نجی شعبے کے تجربے اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا ہے۔
اشتہار کے مطابق، حکومت پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز، ٹیکنیکل ایڈوائزرز اور مختلف اداروں کے سربراہان کے لیے موزوں اور تجربہ کار امیدواروں سے درخواستیں طلب کر رہی ہے۔ یہ تعیناتیاں دو سالہ کارکردگی پر مبنی کنٹریکٹ پر ہوں گی، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر توسیع کا امکان ہوگا۔حکومت کی نئی پالیسی کے تحت وفاقی عہدوں پر گریڈ بائیس میں تعینات بیوروکریٹس کو بھی پرکشش ملازمت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ بھرتی ہونیوالے افسران کو بھاری تنخواہیں اور مراعات دی جائیں گی۔ زرائع کے مطابق اس پالیسی کے تحت وزیراعظم کے منظور نطر کئی سینئر افسران بھی مستفید ہونگے ۔

اہلیت کے لیے کم از کم ماسٹرز یا 16 سالہ تعلیم، 20 سال کا تجربہ اور 12 سال سینئر سطح پر خدمات کی شرط رکھی گئی ہے۔ امیدوار کی زیادہ سے زیادہ عمر 60 سال ہوگی، تاہم خصوصی صورتوں میں رعایت دی جا سکتی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام مکمل شفافیت، میرٹ اور اصلاحاتی وژن کے تحت کیا جا رہا ہے، تاکہ نظامِ حکمرانی کو مؤثر، فعال اور جدید بنایا جا سکے۔ تنخواہیں اور مراعات مارکیٹ ریٹس کے مطابق ہوں گی، تاکہ اعلیٰ معیار کے ماہرین کو راغب کیا جا سکے۔ تاہم بیوروکریسی کے اندر اور حکومتی ناقدین کی جانب سے یہ تاثر بھی گردش کر رہا ہے کہ یہ تقرریاں اصل میں وزیراعظم کے قریبی اور پسندیدہ افسران کو نوازنے اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو دوبارہ سسٹم میں ایڈجسٹ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔درخواستیں 15 دن کے اندر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو جمع کرانی ہوں گی، جن کے بعد شارٹ لسٹنگ کا عمل شروع ہو گا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے کلیدی وزارتوں میں تیز نتائج اور مؤثر فیصلوں کے لیے دی گئی ہدایات کے بعد سامنے آیا ہے۔