تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ
ابھی گزشتہ روز ہی میں فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ “سوشل میڈیا سے لیے مواد کی خبر بناکر سوشل میڈیا پر پھر وائرل کرنے کی کوشش سے پاکستان کا روایتی ڈیجیٹل میڈیا بھی جلد دفن ہوجائے گا”۔
اور آج 10 محرم کو اس کا ایک نمونہ سامنے آگیا ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ یہ انتہائی شرمناک نمونہ ہے۔ ایکسپریس جیسے میڈیا گروپ کی ویب سائٹ پر یہ نمونہ پیش کرنے کے ذمہ داران کو معافی مانگنی چاہیے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ ایکسپریس ڈاٹ پی کے نے آج ایک خبر شایع کی ہے جس کی درج ذیل سرخی لگائی گئی ہے۔
“وائرل پوسٹ میں سمپسنز کارٹون نے ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کے کار حادثے میں جاں بحق ہونے کی پیشگوئی کی ہے”
اس خبر کے ساتھ جس طرح کے گرافکس بناکر جس طرح ایکسپریس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی تشہیر کی گئی ہے، یہ تمام میڈیا کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ یہ محض ایک بے ضرر سی تفریحی خبر نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی اور صحافتی مسئلہ ہے۔
اگر ذمہ داران کی جانب سے یہ عزر پیش کیا جائے کہ ہم نے تو اس خبر کو فیکٹ چیکنگ کے طور پر پیش کیا ہے تو براہ مہربانی اس خبر کی “کنسٹرکشن” کو دیکھ لیں۔ خبر کی سرخی، امیج اور پہلے تاثر میں یہ کہیں بھی نہیں آپ اس خبر کو فیکٹ چیکنگ کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ کلک بیٹ لینے اور ڈالر کمانے کے بعد آپ آخر میں کہیں ایک آدھ جملہ لکھنے سے بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔
بنیادی طور پر یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ صحافت کا نمونہ ہے۔ خبر کی اشاعت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ میں جس انداز سے پاکستانی کرکٹرز (محمد رضوان اور شاداب خان) کی تصاویر کو کارٹون کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا ہے، وہ محض سنسنی خیزی نہیں بلکہ خطرناک حد تک غیر ذمہ دارانہ اور بے حس صحافت کی علامت ہے۔ ان دو افراد کے اہل خانہ، دوست، ٹیم میٹس اور مداحین پر اس خبر کا جو نفسیاتی اثر پڑا ہوگا اس کا اندازہ کوئی ذی شعور انسان آسانی سے لگا سکتا ہے۔
میڈیا پر ایسا کانٹنٹ نہ تو خبر کے زمرے میں آتا ہے، نہ تجزیے اور نہ رپورٹنگ کے دائرہ کار میں آتا ہے بلکہ یہ محض کلک بیٹ ہے۔ محض ویوز حاصل کرنے کی ہوس اور اس طرح زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانے کا لالچ۔ کارٹون کی ایک غیر حقیقی اور جھوٹی تصویر کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینا کہ گویا کسی نے کوئی پیشگوئی کردی ہے اور وہ پیش گوئی بھی کسی کے مرنے سے متعلق ہو تو یہ ڈیجیٹل میڈیا کی اخلاقی پستی کی علامت ہے۔
یہاں “دی سمپسنز نے پیشگوئی کی” والا بیانیہ دراصل وہ بیہودہ میِم کلچر ہے، جسے سنجیدہ صحافت کے پلیٹ فارم پر جگہ دینا صحافت کی تذلیل ہے۔
اس خبر کے قانونی اور اخلاقی پہلو بھی ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا کسی زندہ فرد کی موت کی “ممکنہ پیشگوئی” کو یوں سرخی بنا کر شائع کرنا قانونی اور اخلاقی لحاظ سے درست ہے؟ کیا کسی کی تصویر اور شناخت کو ایسی جھوٹی “پیشگوئی” کے ساتھ جوڑنا ہتک عزت (یعنی ڈی فیمیشن) کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا ادارے نے ان کرکٹرز یا ان کے خاندان سے اس طرح تصویر شایع کرنے کی کوئی اجازت لی؟

یہاں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل میڈیا کیوں آگے نہیں بڑھ پا رہا؟
تو اس سوال کا جواب آج کی ایکسپریس کی “کلک بیٹ” اسٹوری دیتی ہے کہ پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا ترقی کیوں نہیں کر پا رہا؟
ظاہر ہے کہ جب ریٹنگ اور ویوورز کی ڈیجیٹل ٹریفک کو صحافتی اقدار پر ترجیح دی جائے گی، جب تحقیق اور فیکٹ چیکنگ کی بجائے وائرل پوسٹس کو خبر سمجھا جائے گا اور جب انسانوں کو جذبات سے عاری “کانٹینٹ” کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا تو نتائج ایسے ہی ہوں گے، جس کا حتمی نتیجہ میڈیا اور صحافیوں پر بے اعتمادی اور زرد صحافت کے فروغ کی صورت میں نکلے گا۔
کیا یہ “خبر” بنانے اور لگانے سے پہلے سوچا گیا کہ جب کوئی والد، ماں یا بچہ سوشل میڈیا پر یہ دیکھے گا کہ ان کے پیارے کی موت کی “پیشگوئی” ہوچکی ہے تو ان پر کیا گزرے گی؟
شرم کرو! کیونکہ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ حقیقی زندگی ہے جہاں ایسی خبریں دل کے دورے اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
یاد رکھیں! ہر میڈیا کی طرح ڈیجیٹل میڈیا کا مستقبل بھی تحقیقی صحافت، سچائی، توازن اور انسانی ہمدردی سے وابستہ ہے۔ یہ میمز، کارٹونز یا وائرل گمراہیوں سے وابستہ نہیں ہے۔
اگر ایسے “کنٹینٹ” کو فروغ دیا گیا تو یقینا قارئین کا رہا سہا اعتبار بھی ختم ہو جائے گا، سنجیدہ صحافی اور قاری اس پلیٹ فارم سے منہ موڑ لیں گے اور میڈیا زرد صحافت کی ایسی دلدل میں دھنس جائے گا جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔
میرا تو ایمان ہے کہ اس دلدل میں مزید دھنسنے سے بچنا کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ لیکن اس کیلئے کرنا یہ ہوگا کہ میڈیا کے اداروں میں ایسی خبروں کے لیے ایڈیٹوریل سطح پر سخت پالیسیاں بنانی ہونگی، فیکٹ چیکنگ ڈیسک کو متحرک کرنا ہوگا اور اخلاقی اور انسانی پہلوؤں کو خبر سازی میں بنیادی مقام دینا ہوگا۔
آہ میڈیا آہ!
یوم عاشور پر ایکسپریس کی اس خبر نے دُکھی کردیا ہے لیکن میڈیا کے دیگر ادارے بھی اس سے ہرگز مستثنیٰ نہیں ہیں۔ یہاں ہر کوئی ایک سے بڑھ کر ایک ہے، ہر کوئی نہلے پر دہلا ہے۔
ایکسپریس جیسے ادارے کو قطعا زیب نہیں دیتا کہ وہ کارٹون کی من گھڑت تصویر کو لے کر کسی کی زندگی سے کھیلنے والی “پیشگوئی” کو سنجیدہ خبر بنادے۔ یہ صرف صحافت کا زوال نہیں بلکہ معاشرتی بے حسی کی عکاسی بھی ہے۔
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ایکسپریس گروپ میڈیا کا ایک بڑا گروپ پے، جس سے ہزاروں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا روزگار وابستہ ہے۔ اس گروپ کو اچھے کانٹنٹ کے حوالے سے مثال بننا چاہیے ناں کہ اس طرح کا کانٹنٹ پیش کرکے ڈیجیٹل میڈیا کی تدفین میں اپنا حصہ ڈالے۔
میری میڈیا گروپوں، صحافیوں اور صحافیوں کی قیادت سے بھی درخواست ہوگی کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سنسنی کو خبروں سے الگ کریں اور صحافت کو اس کے وقار پر واپس لائیں۔
ورنہ میڈیا ہمارے سامنے دفن ہوجائے گا اور ہم ماتم کرتے رہ جائیں گے۔