وزیراعظم شہباز شریف دیرینہ دوست چوہدری نثار علی خان کے گھر پہنچ گئے، رازاونیاز کی باتیں،پرانے قصے اور نئی کہانیاں ۔ سیاسی حلقوں میں ہلچل

راولپنڈی( وے آوٹ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی چودھری نثار علی خان سے اہم ملاقات کے دوران دیرینہ تعلقات میں نئی پیشرفت سامنے آئی۔،راز ونیاز اور شکوے شکایات کا سیشن بھی ہوا، ذاتی اور سیاسی امور پر گفتگو کے ساتھ اہم قومی معاملات بھی زیر لب آئے۔وزیراعظم شہباز شریف اپنے دیرینہ ساتھی چودھری نثار علی خان سے مری روڈ فیض آباد پر واقع ان کی رہائشگاہ پر پہنچے، وزیراعظم نے ملاقات میں خیریت دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم نے چودھری نثار سے شکوہ کرتے ہوئے کہا،آپ تو لگتا ہے ہمیں بھول گئے ہیں۔ جس پر چودھری نثار نے ناسازی طبع کو رابطوں کے فقدان کی وجہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے چودھری نثار کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعا کی۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے ایک بار پھر چودھری نثار سے ساتھ چلنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خاطر چھوٹے موٹے معاملات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔
چودھری نثار علی خان نے اس معاملے پر رفقا سے مشاورت کا موقف اپنایا اور کسی حتمی فیصلے سے گریز کیا۔ ملاقات کے اختتام پر انہوں نے وزیراعظم کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دیرینہ دوست سے رابطے برقرار رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ ایسے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہونے چاہئیں۔
واضح رہے کہ شہباز شریف اور چودھری نثار کی یہ آٹھ برس میں دوسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے گزشتہ برس سات سال کے وقفے کے بعد ملاقات کی تھی۔ ان حالیہ رابطوں کو سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

ذرائع کے مطابق یہ ملاقات آٹھ برس میں دوسری بار ہوئی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس 6 ستمبر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے بعد پہلی ملاقات ہوئی تھی، جب وزیراعظم شہباز شریف نے چوہدری نثار کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں وہ جماعت سے دور ہو چکے ہیں۔ شہباز شریف اور ان کے درمیان یہ حالیہ ملاقات سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے سکتی ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی امور، سیاسی صورتحال اور ممکنہ رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
واضح رہے کہ چوہدری نثار علی خان جو کبھی مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما تھے، 34 سال سے زائد عرصے تک پارٹی سے وابستہ رہنے کے بعد 2018 میں جماعت سے الگ ہوگئے تھے۔
اس وقت چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق کیا، میں طویل عرصے سے مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہوں، میں اقتدار کی نہیں، عزت کی سیاست کرتا ہوں۔
بعد ازاں انہوں نے 2018 کے انتخابات میں راولپنڈی کی 4 قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا اور دعویٰ کہ ان کی جماعت نے زیادہ تر ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کے بعد پی ٹی آئی نے منحرف رہنما کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پارٹی کے بانی عمران خان کے ساتھ ’ذاتی تعلقات‘ کے باوجود انہوں نے شمولیت سے انکار کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں