اسلام آباد(وے آوٹ نیوز) قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے سوشل میڈیا پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کو ایوان کی کارروائی سے متعلق تصاویر اور تقاریر کی ویڈیوز براہ راست فراہم کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس فیصلے پر اپوزیشن نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں، جبکہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اسے ایوان کی کارروائی کو منظم رکھنے کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سپیکر قومی اسمبلی نے ویڈیو کلپس، تصاویر اور سوشل میڈیا مواد سے متعلق جامع پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے پالیسی کی منظوری کے لیے سمری بھی تیار کر لی ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی میڈیا ونگ سے براہ راست ویڈیو یا تصویر حاصل نہیں کر سکے گا۔

تمام ارکان کو ویڈیوز اور تصاویر اسمبلی کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام) سے حاصل کرنا ہوں گی۔ایوان کی کارروائی کی منتخب تصاویر صرف قومی اسمبلی کی فیس بک پر شیئر کی جائیں گی۔سوشل میڈیا پر مواد کی فراہمی کا مکمل کنٹرول قومی اسمبلی کے سوشل میڈیا ٹیم کے پاس ہوگا۔اس فیصلے کے بعد ارکان کو انفرادی طور پر میڈیا کوریج کی سہولت میسر نہیں رہے گی، جس پر اپوزیشن نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آزادی اظہار اور پارلیمانی شفافیت کے منافی ہے۔ کئی ارکان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ان کی عوامی رسائی اور حلقہ انتخاب سے رابطے متاثر ہوں گے۔ادھر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر مصدقہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر مواد کے پھیلاؤ کو روکنا اور ادارے کے نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔
حتمی منظوری کے بعد نئی پالیسی کا اطلاق آئندہ سیشن سے متوقع ہے۔