راولپنڈی(وے آوٹ نیوز) راولپنڈی میں قائم اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی زیر صدارت ہوئی، جسے 21 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔
سماعت کے دوران مقدمے کے مدعی اور اہم ترین گواہ سب انسپکٹر محمد ریاض کا بیان قلمبند کیا گیا۔ محمد ریاض نے جے آئی ٹی میٹنگ کے دوران دکھائی گئی ویڈیوز، یو ایس بیز اور دیگر شواہد کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی بطور جماعت ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم میں ملوث رہی ہے اور ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
بیان کے دوران عدالت میں وکلائے صفائی نے ہنگامہ آرائی کی اور نعرے بازی کی، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ وکلاء سلمان اکرم راجہ کو اندر بلانے پر اصرار کرتے رہے، جبکہ پراسیکیوشن نے اعتراض اٹھایا کہ راجہ صاحب اس کیس کی پیروی نہیں کر رہے، بلکہ جیل میں سیاسی ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔
پراسیکیوٹر ظہیر عباس شاہ کے مطابق سلمان راجہ بانی پی ٹی آئی سے ریاست مخالف منصوبہ بندی کے لیے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت میں شبلی فراز، زرتاج گل، فواد چوہدری، عثمان ڈار سمیت دیگر ملزمان کو بھی پیش کیا گیا۔
مزید دو گواہان کے بیانات وکلاء کے احتجاج کے باعث قلمبند نہ ہو سکے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشنز طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئیں۔ سماعت 21 جون تک ملتوی کر دی گئی۔